ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کپل گرجر رکنیت تنازعہ: عآپ کا بی جے پی پر نشانہ بی جے پی نے لکھی تھی شاہین باغ کی اسکرپٹ

کپل گرجر رکنیت تنازعہ: عآپ کا بی جے پی پر نشانہ بی جے پی نے لکھی تھی شاہین باغ کی اسکرپٹ

Thu, 31 Dec 2020 19:57:41    S.O. News Service

نئی دہلی،31 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا)دہلی کے شاہین باغ میں پستول سے فائر کرنے والے کپل گرجر کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکنیت دینے اور اور پھر اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کے معاملے پر عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔

آپ کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ اور ترجمان سوربھ بھاردواج نے بی جے پی پر شاہین باغ کی اسکرپٹ لکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم تنازعہ بڑھنے کے بعد بی جے پی نے چند گھنٹوں میں کپل کی پارٹی رکنیت منسوخ کردی۔ ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے آپ کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کپل گرجر کا سنجے سنگھ سے رشتہ ہے اور شاہین باغ میں جو فائرنگ ہوئی وہ سنجے سنگھ نے کروائی تھی۔ لیکن آج وہ کپل گرجربی جے پی میں شامل ہوگیا۔ اس سے ہم واضح طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ شاہین باغ میں تحریک چلانے والے اور وہاں گولی چلانے والے لوگ بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ شامل ہوجاتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی ملک کے ساتھ ایسا کام کیوں کررہی ہے۔ بی جے پی عآپ کو بدنام کرنے کے لیے کس حد تک گرے گی۔ ہر بار بی جے پی گندی سیاست کے ذریعہ ایسے لوگوں کو استعمال کررہی ہے جو پہلے ان کا حصہ تھے، پھر ان کا تعلق ہماری پارٹی سے جوڑا اور اب وہ خود ان کو پارٹی میں شامل کررہے ہیں۔

دوسری طرف عام آدمی پارٹی کے ترجمان سوربھ بھاردواج نے بی جے پی کو نشانہ بنا تے ہوئے کہا کہ شاہین باغ میں شامل ہوکر دہلی کا ماحول خراب کرنے والے کپل گرجرنے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ شاہین باغ کی تحریک چلانے اور اس میں گولی چلانے والے لوگ اب بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں صرف فائدہ اٹھانے کے لئے دہلی کا ماحول خراب کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دہلی پولیس کے ڈی سی پی نے کپل گرجر کو عام آدمی پارٹی کا کارکن ہونے کا دعوی کیا تھا اور بی جے پی نے انہیں رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کا قریبی کہا تھا۔ او ر بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کپل گرجرکو دہشت گرد قرار دیا تھا اورعام آدمی پارٹی پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی اب جاننا چاہتی ہے کہ ایسی کیا مجبوری بن گئی تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایسے دہشت گردوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا پڑرہا ہے۔

سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی اسمبلی انتخابات 2020 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے تمام ترقیاتی کاموں کو چھوڑ کر اپنا سارا انتخاب شاہین باغ کے معاملے پر مرکوز کیا تھا، اوردہلی کے پورے ماحول کو فرقہ وارانہ بنا دیا تھا۔ ہندو اور مسلم کے درمیان زہر گھولا جارہا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی صرف اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے دہلی کی فضا کو آلودہ کررہی تھی، اس طرح زہر اگل رہی تھی کہ تمام سیاسی وسماجی ماہرین یہ کہہ رہے تھے کہ دہلی میں کبھی بھی ہندو اور مسلم کے مابین فرقہ وارانہ فسادات ہوسکتے ہیں۔

سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ دہلی اسمبلی انتخابات سے محض چند دن قبل کپل بسویا عرف کپل گرجر نامی ایک شخص شاہین باغ پستول لے کر پہنچا۔ بی جے پی کی طرف سے نعرے لگائے گئے اور اس کے بعد انہوں نے وہاں سے پستول سے فائر بھی کی۔ پولیس خاموش تماشائی بن کر بیٹھی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ بی جے پی صرف ایک ہی چیز کی کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح دہلی میں دو برادریوں کے مابین فسادات ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سب نے اسے دیکھا اور خود بی جے پی کے لوگوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ شاہین باغ تحریک کے بڑے رہنما بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایک اور خبر سامنے آئی کہ شاہین باغ میں پستول لے کر تشدد پھیلانے کی کوشش کرنے والے کپل گرجر بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات اب بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ شاہین باغ تحریک کے دونوں اطراف کے کردار، شاہین باغ میں تحریک کرانے والے اور ان پر گولی چلانے والے افراد بھی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ بی جے پی نے صرف دہلی کے اندر کا ماحول خراب کیا اور پھر انتخابی فوائد حاصل کرنے کے لئے دہلی کے اندر فسادات کرایا۔


Share: